شخص ہے، جس نے عزت کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا، حتیٰ کہ اپنے اکلوتے بیٹے کی جان کی پر واتک نہ کی۔
اس کا ” شاہ” اپنی عزت اور غیرت کے معاملے میں کس قدر محتاط تھا، یہ حقیقت “میرب” کے دل میں کندہ تھی۔
اب “میرب” کو اپنے “شاہ” کا دل جیتنے کے لیے نہ صرف صبر بلکہ بہت سے تحمل کی بھی ضرورت تھی۔ “شاہ” کا موڈ خراب ہونے کے بعد فورا سے ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ “رومان شاہ” کی اس کے ساتھ محبت بے پناہ تھی، مگر اس کی غیرت اس سے بھی بڑھ کر تھی۔
سفر کی تھکن کے ساتھ وہ سب وادی نیلم پہنچ چکے تھے۔ بچے پہلے سے ہی فارم ہاؤس پر تھے ، اس لیے سب کو وہاں ہر صورت پہنچنا تھا۔ راستے بھر کی انجوائمنٹ کے بعد سب تھکے ہوئے تھے ، مگر خوش بھی۔ چوہدری ” وجدان ورک” اجازت لے کر جانا چاہتا تھا، لیکن “رومان شاہ” نے خلوص بھرے انداز میں اسے فارم ہاؤس پر رکنے کی دعوت دی۔
ٹائم کافی ہو چکا تھا اس لیے “رومان شاہ” نہیں چاہتا تھا کہ
اس وقت وہ جائے۔ وجدان ” “رومان شاہ” کی طرح اصول پسند اور خود مختار طبیعت کا مالک تھا، اس ” لیے رکنا نہیں چاہتا تھا مگر “رومان شاہ” نے اس کے لیے اپنے خلوص کی جھلک دکھائی اور کہا کہ اگر وہ رک جائے تو اسے بے حد خوشی ہو گی۔ ” شاہ زیب” اور “احمر”، “شاہ میر ” نے بھی اصرار کیا، تو ” وجدان ورک ” کو “منت” کے ساتھ رکنے کے لیے راضی ہو نا پڑا۔
فارم ہاؤس وسیع اور شاندار تھا، جہاں کمروں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ “دلاور ” کو فوراً سے کہہ دیا گیا تھا کہ ” وجدان ورک” اور “منت” کے لیے ایک آرام دہ کمرہ تیار کیا جائے۔
فارم ہاؤس کی وسعت اور خوبصورتی ہر ایک کے دل کو بھارہی تھی۔ “منت” بھی بے حد خوش تھی، کیونکہ وہاں خواتین کا اچھا خاصا گروپ موجود تھا، جن کے ساتھ وہ دل بھر کر گپ شپ کر سکتی تھی۔
وجدان ورک ” کا یہاں آنا کام کے سلسلے میں تھا، لیکن اس نے “منت ” کو گھمانے ” کا وعدہ بھی پورا کیا تھا۔ ہوٹل میں قیام کے دوران “منت” کافی بور ہو جاتی تھی، اور اب فارم ہاؤس کی خوشگوار محفل اسے کسی نعمت سے کم محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ ” وجدان ورک ” کو یہاں کم از کم ایک ہفتہ لگنا تھا، اور ایسے میں فارم ہاؤس کی گیدرنگ “منت” کے لیے سکون اور خوشی کا باعث بن گئی تھی۔
فارم ہاؤس پہنچتے پہنچتے وہ کافی لیٹ ہو گئے تھے اس لیے بچے تقریباً سب بچے سو چکے تھے اور “زکیہ ” کے ہوتے ہوئے کوئی ٹینشن کی بات نہیں تھی اس نے بہت ذمہ داری کے ساتھ سب کچھ سنبھال رکھا تھا۔
فارم ہاؤس کی پُر سکون فضا میں سب لوگ تھکن سے چور تھے ، اس لیے فارم ہاؤس پہنچتے ہی اپنے اپنے کمروں کا رخ کر لیا۔
“دلاور”، پلیز تنگ مت کریں، مجھے سونے دیں۔”
فدا” نے تھکے لہجے میں کہا۔ “
سونے نہیں دینا کیونکہ میں نے تم سے بہت سارا پیار کرنا ہے۔ “
دلاور ” نے شرارتی انداز میں جواب دیا۔”
” جی نہیں، پیار نہیں کرنا۔ ہمیں سونا ہے۔” : فدا” نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا” جی نہیں، کس نہیں دوں گی، کیونکہ کس لینے کے ساتھ ہی آپ کا موڈ بہت ہائی ” رومینٹک ہو جاتا ہے ، اور مجھے اس وقت سونا ہے۔ فدا” نے چہرہ دوسری جانب کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔”
“! اچھا، اور تمہارے انکار کرنے سے تو جیسے میں تمہیں سونے دوں گا ! سو کر دکھاؤ” دلاور ” نے شرارت بھرے لہجے میں کہا اور “فدا” کو نرمی سے بیڈ پر پھینک دیا۔ ” پھر خود بھی اس کے اوپر جھکتا چلا گیا۔ محبت کی پیار بھری جنگ شروع ہو چکی تھی۔ ایک نے ضد میں سونا تھا، اور دوسرا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ، اسے سونے دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ “فدا” کے دونوں ہاتھوں پر اپنے بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے نازک سی انگلیوں میں انگلیاں الجھاتے ” دلاور ” نے اس کی جھٹپٹاہٹ کو جیسے خود میں قید کر لیا
” آپ سارا دن مصروف رہتے ہیں، یہی اچھا ہے ، ورنہ آپ کو بس یہی آتا ہے۔” فدا” ہلکا سا شکوہ کرتے ہوئے اس کے سینے میں سر چھپا گئی تھی۔ دل کی دھڑکنوں ” اور ہنسی کے بیچ محبت بھرے لمس اس کے چہرے پر بکھیرتے ہوئے، جذ باتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوا ” دلاور ” اسے سسکنے پر مجبور کر رہا تھا۔
محبت کی نرم اور ٹھنڈی بارش میں بھیگتے ہوئے، وہ ہر لمحہ ” دلاور ” کی محبت کی شدت کو دل کی گہرائیوں تک محسوس کر رہی تھی۔ اس کے جسم پر بارش کی بوندیں ایک نرم لمس کی طرح گرتی ، اور وہ دائیں سے بائیں سر کو ہلاتے ہوئے، “دلاور ” کی پیار بھری شدتوں میں محظوظ ہو رہی تھی۔ اس لمحے میں ، جیسے وقت رک سا گیا تھا، اور دونوں کا رشتہ ایک اور نئی گہرائی میں ڈوب رہا تھا۔
وہ سسکتے ہوئے بیڈ کی چادر کو مٹھیوں میں بیچ کر کھینچتے ہوئے، “دلاور” کی پیار بھری شدتوں کو محسوس کر رہی تھی۔ اس کی نرم نرم سکاریاں پورے روم میں گو گونج رہی تھیں، جیسے ہر لمحہ میں محبت کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہو۔ ان کی قربت میں وقت جیسے تھم گیا تھا، اور وہ ایک دوسرے میں گم ہو کر صرف محبت کارنگ محسوس کر رہے تھے۔
شاہ زیب ” پلیز سو جائیں، دور نہ آج قسم سے میں نے آپ کا خون کر دینا ہے۔” ہما کی آواز میں بے چینی اور غصہ تھا، اور اس کا چہرہ اضطراب سے بھر اتھا۔ ڈاکٹر ” ” شاہ زیب ” کے ارادوں کو دیکھتے ہوئے، وہ تقریباً چیخ ہی پڑی تھی۔
[videojs_video url=”https://cdn10.urduflix.pk/NiaziPlay/Mehmed-Fetihler-Sultani/Urdu/S3/temp/53.mp4/index.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
- EPISODE 4 (53) URDU SOURCE
Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 4 (53) in Urdu Sub