کالج کے گیٹ سے نکلتے وہ سیدھا روڈ پر چلنے لگی جبکہ نگاہیں کسی کی متلاشی تھی اب تو اتنے دن گزر گئے تھے مگر وہ شخص اسے واپس نظر نہیں آیا تھا جو ایک ہی ملاقات میں اسکے دل پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔
تڑپتے دل کی خاطر وہ آج ایک بار پھر ڈرائیور کا انتظار کئے بغیر باہر آگئی تھی دل میں ایک آس تھی کہ شاید وہ ایک بار پھر کہیں سے آکر اس سے کچھ کہے اس سے بات کرے۔۔ مگر آج بھی اسکی امید ٹوٹی تھی۔
بوجھل دل کے ساتھ وہ واپس کالج کے رستے کی جانب ہوئی تبھی سامنے سے آتا اسکا ڈرائیور اسکے پاس رکا تھا۔
اس کے سوالوں کو سرے سے نظر انداز کرتی وہ خاموشی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں موند گئیں۔
گھر پہنچ کر بھی اسکے موڈ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی مگر اپنی ماں کے چہرے پر رونق دیکھ وہ ٹھٹکی ضرور تھی۔۔
“مہر گل اتنی دیر کردی لڑکی”
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے امی؟”
“سب ٹھیک نہیں بہت ٹھیک ہے اپنی حورے کا رشتہ طے ہوگیا ہے”
ان کی بات پر اسے خوش گوار حیرت نے گھیرا تھا۔
“کیا واقعی ایسے اچانک کس کے ساتھ کون ہے ؟”
اس نے ایک ہی سانس میں ڈھیروں سوال کئے ۔
“کامران کا بھائی ہے سالک حیدر”
ان کے بتانے پر اسے وہ لاجواب سا شخص یاد آیا تھا جسے دیکھ اسکی ساری کزنز پاگل ہوگئی تھیں۔
“میں ابھی آتی ہوں حورے کے پاس سے”
“ارے پہلے چینج تو کرلو”
“آکر کرتی ہوں امی ابھی اپنی چھوٹی سے تو مل لوں”
انہیں کہتی وہ تیزی سے حورے کے پورشن کی طرف بڑھی تھی۔
__________
کمرے میں مکمل اندھیرا کئے وہ بیڈ پر اوندھی لیٹی ہوئی تھی جبکہ اسکا وجود بری طرح سے لرز رہا تھا ۔
تکیے میں منہ دئیے وہ سسک رہی تھی رو رہی تھی۔۔ جو خبر آج اسے اسکی ماں نے سنائی تھی اسکے بعد اسے لگا جیسے کسی نے اسکے جسم سے جان کھینچ کر نکال لی ہو۔۔
ساری زندگی اپنی حفاظت کی اور پھر جب دل اس شخص کو دے دیا تو یہ امتحان کیوں؟
وہ ناجانے کتنی بار خود سے یہ سوال کر چکی تھی مگر جواب اسکے پاس نہیں تھا۔
شروع سے ایک سادہ زندگی گزارتے وہ دو سال پہلے اتفاقیہ طور پر ارمغان خان سے ٹکرائی تھی اور پھر یہ اتفاق ہر دوسرے دن ہونے لگا۔۔ وہ شخص تب تب اسکے سامنے آجاتا جب اسے مدد کی ضرورت ہوتی۔۔۔
وہ جو ہمیشہ سے ڈرپوک اور خود میں گم رہنے والے تھی اس شخص سے خوفزدہ ہوگئی۔
وہ اسے کوئی جادوگر لگا۔۔ اور ایک رات وہ اسکی حویلی میں آگیا اس سے اظہار محبت کرنے۔۔
یہ وہ لمحہ تھا جب پہلی بار حورے کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گی خوف سے وہ کانپ اٹھی تھی ۔
سامنے ارمغان خان اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔
“میں نے ہمیشہ ہر قدم پر آپ کی حفاظت کی ہے حورے کیا میرے احسانوں کا ایسے بدلہ چکائیں گی انکار کی صورت؟
[videojs_video url=”https://cdn4.urduflix.pk:8443/NiaziPlay-1/Mehmed-Fetihler-Sultani/Urdu/S3/Episode-59.smil/index.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]
“
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
- EPISODE 10 (59) URDU SOURCE
Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 10 (59) in Urdu Sub