Uzak Sehir Season 2 Episode 7 (35) Urdu Subtitles
ان کی شادی کو دو ماہ ہونے والے تھے ان کی ازدواجی زندگی بہت خوشحال تھی زینب کو تو حسن نے اس قدر سر چڑھا دیا تھا کہ حویلی کے سب مکین اس سے تنگ آ چکے تھے وہ گھر کے کاموں سے تو بالکل ہی الگ ہو گئی تھی حسن کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی کام کر کے تھک جاتی ہے اس لیے اس سے کوئی کام نہ کروایا جائے
زینب بیڈ پر بیٹھی حسن کے لیپ ٹاپ میں فلم دیکھنے میں مصروف تھی ساتھ ہی ساتھ وہ چپس بھی کھا رہی تھی جب اسے زور کی ابکائی آئی وہ دوڑتی ہوئی باتھ روم میں گھس گئی الٹیاں کر کے وہ نڈھال سی کمرے میں آئی اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا وہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی طبیعت بوجھل ہوئی تھی اس نے حسن کو کال کرنے کے لیے موبائل دیکھا تو وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس چارج پر لگا ہوا تھا وہ آہستہ سی اٹھی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر رکی سر میں شدید قسم کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اس نے بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ موبائل اٹھایا اور حسن کو کال مِلائی جو اپنے ڈیرے پر مردوں میں بیٹھا کسی کا جھگڑا سلجھا رہا تھا کال آنے پر وہ سائڈ ہوتا ہوا کال اٹھا گیا
جی جانم سائیں خیریت حسن نے محبت بھرے لہجے میں اس سے کہا شش شاہ میری طبیعت اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ دھڑام سے زمین پر گرتی ہوئی بےہوش ہو گئی جانم زینب کیا ہوا میری جان کچھ تو بولو اس کی آدھی بات اور پھر گرنے کی آواز سن کر حسن حواس باختہ ہوتا ہوا باہر کی طرف بھاگا اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اپنی ماں کو کال مِلا کر سب خبر دی وہ تیز ڈرائیونگ کرتا ہوا حویلی پہنچا وہ بھاگتا ہوا سیدھا اپنے کمرے میں گیا سامنے زینب بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی فاطمہ اور عائشہ اس کو دبردستی دودھ پلانے کی کوشش کر رہی تھیں
اماں سائیں سب ٹھیک ہے نہ کیا ہوا زینب کو چہرے پر بےحد فکرمندی تھی جی میرا شیر پتر سب ٹھیک ہے اچھا فاطمہ اب یہ خود ہی اس کو سنبھال لے گا وہ دونوں مسکراتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں حسن بیڈ پر اس کے نزدیک بیٹھا جس کے چہرے پر شرمیلی سی مسکان تھی کیا ہوا ہے میری جانم سائیں چہرہ اتنا پھیکا پڑ گیا جب میں جا رہا تھا تب تو ٹھیک تھی تم اس کا چہرہ چومتے ہوئے وہ فکرمندی سے بولا شاہ سائیں آپ وہ نظریں جھکائے بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر شرم اور حیا آڑے
آ رہی تھی جانم سائیں بولو تم مجھے ڈرا رہی ہو وہ جب اس سے بولا نہ گیا تو اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے حسن کا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا جہاں اب ایک نئی جان سانس لے رہی تھی
حسن کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی آنکھوں میں نم آنسو جمع ہو گئے س سچ میں جانم سائیں ہاں شاہ سائیں آپ باپ بننے والے ہیں اور میں ماں نم لہجے میں کہتی ہوئی وہ اس کے سینے پر سر رکھ گئی تھینک یو سچ میری جان مجھے اتنی بڑی خوشخبری دینے کے لیے حسن نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے خود میں بھینچ لیا وہ اب اس کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگا لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا ان کی زندگی میں اچانک ایک ایسا طوفان آیا جو ان کی ہنستی کھیلتی زندگی برباد کر گیا
زینب کا چھٹا مہینہ چل رہا تھا شام کا وقت تھا حسن کام کے سلسلے میں ڈیرے پر گیا تھا عائشہ اور فاطمہ دونوں پڑوس میں فوتگی پر گئی ہوئی تھیں جب حویلی میں عدنان شاہ آیا اس دن کے بعد سے وہ آج آیا تھا زینب کی زندگی برباد کرنے وہ سیدھا زینب کے کمرے میں گیا جہاں وہ صوفے پر بیٹھی موبائل میں مصروف تھی اس نے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر لیا زینب حسن شاہ تمہیں کیا لگا میں اتنی آسانی سے تم سے دستبردار ہو جاؤں گا میں نے تم سے محبت کی اور تم نے میری پاک محبت کو ناپسندیدہ لگاؤ کا نام دیا تھا نہیں چلو آج میں تمہیں بتاتا ہوں ناپسندیدہ لگاؤ کسے کہتے ہیں اور اس کو اپنے محبوب سے پورا کرتے ہوئے کتنا مزہ آتا ہے وہ بری مسکراہٹ چہرے پر سجائے گویا ہوا زینب کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی اس نے اپنے بھرے ہوئے جسم کو دوپٹے سے اچھی طرح ڈھانپ لیا جو عدنان شاہ نہ دیکھ سکا وہ ایک دم سے اسے گود میں اٹھاتے ہوئے بیڈ پر پٹخ دیا زینب کو لگا آج اس کی دنیا لٹ جائے گی
عدنان شاہ اس پر جھکتے ہوئے اس کی گردن پر دانت گاڑ گیا زینب چیخ بھی نہ سکی کیونکہ عدنان شاہ نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر اس کی آواز بند کر چکا تھا وہ مدہوش ہوتے ہوئے اس کے پورے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا جب دروازہ کھلا اور حسن شاہ اندر داخل ہوا مگر سامنے کا منظر دیکھتے ہی اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی
اس کی بیوی کے اوپر جھکا اس کا دوست یہ منظر اس کے لیے کسی موت سے کم نہیں تھا عدنان شاہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے قریب آنے کی وہ اسے زینب کے اوپر سے ہٹاتے ہوئے بولا زینب نے التجا بھری نظروں سے حسن شاہ کو دیکھا تمہاری بیوی مجھ سے محبت کرتی ہے حسن شاہ ہم دونوں سالوں سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تم ہمارے بیچ میں آئے ہو وہ جھوٹ بولتا ہوا برائی سے مسکرایا کیا
بکواس کر رہے ہو ہاں زینب کیا کہہ رہا ہے یہ ج جھوٹ بول رہا ہے شاہ سائیں ہم صرف آپ سے محبت کرتے ہیں زینب ڈرو مت تم بتاؤ میں ہو نا تمہارے ساتھ وہ دوبارہ بولا تو حسن نے ایک زوردار مکا اس کے چہرے پر جڑ دیا کہ اس کا دماغ ہل گیا یقین نہیں تو اپنی بہن کو بلا کر پوچھ لو ثناء کو اپنے کالج میں ایک لڑکا پسند تھا جس کے ساتھ وہ کئی دفعہ ہوٹل بھی جا چکی تھی عدنان کی بہن بھی اسی کالج میں پڑھتی تھی اس لیے اسے خبر تھی اسی کا فائدہ اٹھا کر اس نے ثناء کو پہلے ہی دھمکی دے کر اپنے پلان میں شامل کر لیا تھا
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 1
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 2
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 3
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 4
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 5
EPISODE 7 (35) URDU SOURCE 6
Uzak Sehir Season 2 Episode 7 (35) Urdu Subtitles