Uzak Sehir Season 2 Episode 3 (31) Urdu Subtitles

یہ میں ملازمین کو دوں گی تا کہ یہ غریبوں میں بانٹ دیں۔” اس نے پیسے دونوں کے سر سے وار کر ایسے رکھ
دیے ،
جیسے ان کی بلائیں لے رہی ہو مگر پھر بھی اسے تسلی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی خوبصورت آنکھوں سے رات کو لگایا ہوا کچھ کا جل باقی تھا۔ آنکھ سے ہلکا سا کا جل چھوٹی انگلی پر لیا، اور پہلے “رائم شاہ” کی گردن کے پیچھے کالا ٹکا لگایا، پھر “رومان شاہ” کی طرف بڑھی۔ “رومان شاہ” نے حیرانی اور محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس کا نازک سا ہاتھ اپنے بھاری مضبوط ہاتھ میں کے تھامے ہوئے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” یہ کیا کر رہی ہو ؟”
کہیں آپ دونوں کو نظر نہ لگ جائے ، اس لیے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی آپ کی نظر ” اتار رہی ہوں۔
رومان شاہ” کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑواتے ہوئے “رومان شاہ” کے کان کے پیچھے وہ ” کالا نکا لگا چکی تھی۔ رومان شاہ ” اس کی اس حرکت پر مسکرادیا۔ ” رومان شاہ ” ایسی باتوں پر یقین نہیں ” رکھتا تھا مگر یہاں بات یقین نہیں محبت کی تھی۔ وہ بڑی محبت سے یہ سب کر رہی تھی اور “میرب” کو خوش دیکھنا “
رومان شاہ” کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ کبھی کبھی کچھ چیزیں یقین اور بے یقینی سے بہت آگے ہوتی ہیں صرف اس چیزوں میں کوئی لاجک نہیں ہوتا بس مقابل کی محبت ہوتی ہے اور کبھی کبھی بے یقینی والی چیزیں بھی ہو لینے دیا کریں کیونکہ آپ کے پارٹنر کو جو خوشی دے وہ چیز غلط اور بری نہیں ہو سکتی۔
بہت پیار الگ رہا ہے میرا بیٹا۔ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو نظر بد سے بچائے، آپ دونوں ” کو نظر بد سے بچائے ، اتنے خوبصورت ہوا گر میرا بس چلے تو آپ دونوں کو پوری دنیا کی ” نظروں سے چھپا کر رکھ لوں۔
میرب ” بے اختیار نیچے جھکی اور اپنے شہزادے کے ماتھے پر لب رکھ کر بوسہ دیتے ” ہوئے اس کی گالوں کو کھینچتے ہوئے پیار کر رہی تھی۔ چھوٹی سی ” آیت ” جو پاس کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی ، فورا لپک کر اپنے بھائی کے ماتھے پر بوسہ دے دیا، جیسے ماں کی ہر ادا کو دہرانا اس کا فرض ہو۔ “میرب” اور “رومان شاہ” کے لبوں پر ” آیت ” کی حرکت دیکھ کر ہلکی سی ہنسی ہونٹوں پر پھیل گئی۔ چھوٹی سی ” آیت ” نے اپنی ماں کی کاپی کرتے ہوئے اپنے بابا کے ڈریسنگ پر رکھے ہوئے والٹ سے چند نوٹ نکالے اور اپنے چھوٹے ہاتھوں میں پکڑ کر بابا اور بھائی کے سر سے وارے۔ “رومان شاہ” نے اپنی بیٹی کی یہ معصومیت دیکھی تو ملکی سی ہنسی دبائے ، اس کے برابر نیچے فرش پر بیٹھ گیا تا کہ وہ آرام سے اس کے سر سے نوٹ وار سکے۔
رومان شاه ” محبت بھری نظروں سے بیٹی کو دیکھے جارہا تھا اور دل میں اس رب کا شکر ” گزار تھا جس نے اسے بیٹی جیسی نعمت عطا کی۔ ” رومان شاہ” بہت اچھا باپ تھا ” آیت شاہ” کو دیکھنے والے لوگ اس بات کے گواہ تھے۔ “رومان شاہ” نے جس طرح کی لائف سٹائل ” آیت ” کو دیا تھا آج کے زمانے میں اتنا عدل و انصاف کرنا بہت مشکل تھا۔
رائم ” اور ” آیت ” میں رتی برابر بھی “رومان شاہ ” فرق نہیں رکھتا تھا پھر چاہے ” بات محبت کی ہو یا روپیہ پیسے کی۔ جب بھی پرافٹ ہوتا تھا ” رومان شاہ ” ہمیشہ
” آیت ” کو “رائم ” کے برابر رکھتا تھا۔ ہر پرافٹ میں “رائم شاہ” اور ” آیت شاہ” دونوں برابر کے حصے دار تھے۔ “رومان شاہ” نہیں چاہتا تھا کہ اس کی زندگی گزر جانے کے بعد کبھی ” آیت ” بے بس، مجبور اور در بدر بھٹکے۔ رومان شاہ” نے گودلی ہوئی بیٹی کے لیے ایک الگ مثال پیدا کی تھی جسے لوگ ہمیشہ ” یاد رکھیں گے۔
” بس میر ابچہ اور نظر مت اتار و۔ “
” دونوں ماں بیٹی کے ہوتے ہوئے ہمیں کبھی نظر نہیں لگ سکتی۔ ” اپنی پیاری سی بیٹی کے ہاتھ پکڑ کر چومتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
” چلو اب ہم لوگ عید نماز کے لیے چلتے ہیں دیر ہو جائے گی۔”
ر کیے یہ میٹھی عید ہے ، عید الفطر پر میٹھا گھر سے کھا کر جانا سنت ہوتی ہے۔”
میرب ” نے “رومان شاہ” کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا تھا۔”
” ہاں یار سوری یہ تو میں بھول ہی گیا۔”
مگر میں نہیں بھولی۔ آپ چلیں میں نے ٹرائفل بنایا ہے ، آپ اس سے منہ میٹھا کر کے ” ” جائے گا۔ ٹرائفل کب بنا یا جناب آپ نے ؟”
رومان شاہ” نے حیرانی سے پوچھا۔ “
صبح صبح اٹھ کر فجر کی نماز کے بعد جب میں نیچے گئی تھی سب سے پہلے ٹرائفل بنا کر ” فریزر میں رکھا تھا تا کہ جانے سے پہلے ریڈی ہو جائے۔
میرب ” بچوں اور “رومان شاہ” کے ساتھ چلتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے جاتے ” ہوئے بتارہی تھی۔
لائک اٹ۔ مطلب میری بیوی بہت ذمہ دار ہے۔ “
رومان شاہ” نے محبت لٹاتی نظروں سے “میرب” کی عقلمندی اور ذہانت کو سراہا ” تھا۔
میرب” کے گال بلش کرنے لگے تھے “رومان شاہ” کی تعریف کرنے پر۔ شوہر ” کی چھوٹی سی تعریف بھی عورت کے لیے بہت معائنے رکھتی ہے۔ ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ایسے چھوٹے چھوٹے تعریفی جملے بولتے رہنا چاہیے۔۔۔ اور “رومان شاہ “
جیسے عقلمند مرد کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں تھی اس لیے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں “میرب” کی تعریف کر کے “میرب” کے چہرے کی رونق اور خوشیوں کو ہمیشہ وہ دو بالا کرتا رہتا تھا۔ “میرب ” ان کو ڈائننگ ٹیبل پر چھوڑ کر خود جلدی سے کچن میں چلی گئی تھی میٹھا لینے کے لیے۔ ” رومان شاہ ” اور بچے ڈائننگ ٹیبل کے ارد گرد کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔

EPISODE  3 (31) URDU SOURCE 1

EPISODE  3 (31) URDU SOURCE 2

EPISODE  3 (31) URDU SOURCE 3

EPISODE  3 (31) URDU SOURCE 4

EPISODE  3 (31) URDU SOURCE 5

Uzak Sehir Season 2 Episode 3 (31) Urdu Subtitles