ات سے صبح ہو چکی تھی عمران رات سے ہاسپٹل میں تھا وہ عبیرہ پر نظر رکھ رہا تھا کہ اسے بات کرنے کا موقع ملے لیکن ابھی تک اسے موقع نہیں ملا تھا ۔
تایا جان آپ روبینہ آپی کا خیال رکھیں میں آتی ہوں ۔ عبیرہ نے کہا ۔
ٹھیک ہے بیٹا جلدی آو پھر گھر چلی جاؤں دونوں ۔ فیضان صاحب بولے ۔
جی ٹھیک ہے ۔ عبیرہ نے کہا اور باہر کی طرف چل دی ۔
بات سنیں سسٹر ۔ عبیرہ نے ایک نرس کو پکارا ۔
جی بولیں ۔ نرس نے جواب دیا ۔
واشروم کس طرف ہے ۔ عبیرہ نے پوچھا ۔
یہاں سے سیدھا دائیں طرف ۔ نرس نے بتایا ۔
عبیرہ شکریہ ادا کرتی اس طرف مڑ گئی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ عمران اس کا انتظار کر رہا ہے ۔
عبیرہ جیسے ہی واشروم سے منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تب ہی اچانک عمران اس کے سامنے آگیا ۔
کیسی ہو میری جان ۔ عمران نے پوچھا ۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو گھٹیا انسان ؟ عبیرہ غصے سے بولی ۔
اف کل تک جو ڈر کے رہتی تھی وہ آج شیر بن گئی ہے ۔ عمران ہنسا ۔
بکواس بند کرو اپنی اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ شور مچا دوں گی ۔ عبیرہ نے کہا ۔
شور مچانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی جان من ۔ عمران بولا ۔
کیا مطلب ہے تمھارا ۔ عبیرہ نے پوچھا
مطلب بھی سمجھا دوں گا اچھا یہاں سے چلو باہر پارکنگ میں مجھے تم سے بات کرنی ہے بلکہ کچھ دکھانا ہے ۔ عمران نے کہا ۔
کیا دکھانا ہے بتاؤ ؟ عبیرہ نے سوال کیا ۔
دیکھو تمھیں یاد ہو گا تمھاری کچھ تصاویر ہیں میرے پاس ویسے اگر میں وہ تصاویر وائرل کروا دوں سوشل میڈیا پر تو کتنا مزا آ جائے گا ہیں نا ۔ عمران نے کہا
تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔ عبیرہ نے غصے سے کہا ۔
میں ضرور کروں گا اگر تم میری بات نہیں مانو گی تو ۔ عمران بولا ۔
بہت ہی گھٹیا قسم کے انسان ہو تم غلیظ انسان جب احمد چاچو کو تمھاری اصلیت پتہ چلے گی تو کیا بیتے گی ان پر کبھی سوچا ہے تم نے ۔ عبیرہ نے کہا ۔
میرے ساتھ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن ابھی تم اپنی فکر کرو ۔ عمران نے ہنستے ہوئے کہا ۔
اچھا دیکھو پلیز ابھی گھر کے حالات صیح نہیں ہیں مجھے کچھ وقت دو پلیز۔ عبیرہ نرم پڑتے ہوئے بولی ۔
ٹھیک ہے تین دن کا وقت ہے تمھارے پاس اس کے بعد اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو بہت برا کروں گا تمھارے ساتھ ۔ عمران بولا ۔
ٹھیک ہے جاؤ ابھی یہاں سے ۔ عبیرہ نے کہا ۔
سب لوگ ناشتہ کر رہے تھے ناشتے سے فارغ ہو کر احمد صاحب ارحم کے ساتھ فیکٹری چلے گئے جبکہ علینہ نے انعم کے ساتھ مل کر گھر کی صفائی کی شازیہ بیگم نے کچن کا سارا کام سنبھالا ۔
علینہ کا فون بجنے لگا علینہ نے دیکھا تو دائم۔کا فون تھا ۔
کیا مسئلہ ہے دائم ؟ علینہ نے پوچھا ۔
میرا کام کیا یا نہیں تم نے ۔ دائم نے سوال کر دیا ۔
کر دوں گی اتنی کیا جلدی ہے ۔ علینہ نے کہا ۔
مجھے نہیں معلوم تمھارے پاس صرف ایک گھنٹا ہے مناؤ اسے جتنی جلدی ہو سکے ۔ دائم بولا۔
تمھارا دماغ سہی ہے دائم میں کیسے اسے ایک گھنٹے میں مناؤں گی ۔ علینہ نے پوچھا ۔
تم ایک کام کرو کسی بہانے سے انعم۔کو مارکیٹ بھیج دو میں خود اس سے بات کر لیتا ہوں ۔ دائم نے مشورہ دیا۔
ہاں یہ ٹھیک ہے میں اسے بھیج دیتی ہوں کسی طرح لیکن تم اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہیں کرو گے ۔ علینہ نے کہا ۔
[videojs_video url=”https://cdn10.urduflix.pk/NiaziPlay/Mehmed-Fetihler-Sultani/Urdu/S3/temp/52-h.mp4/index.m3u8″ poster=”http://multanmarble.com/APP/wp-content/uploads/2024/01/placeholder-image.png”]
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
- EPISODE 3 (52) URDU SOURCE
Mehmed Fetihler Sultani: Mehmed The Conqueror: Season 3 : Episode 3 (52) in Urdu Sub